اردوئے معلیٰ

شمیم نعت سے جو حالِ دل وجدان جیسا تھا

مرا ہر شعری مجموعہ بھرے گلدان جیسا تھا

 

رہ عشقِ نبی میں نور سے ہر سانس روشن تھی

وہاں پر ہر پڑاؤ منزلِ عرفان جیسا تھا

 

کسی زائر سے پوچھا ، کیسا پایا شہر آقا کو

جواب آیا کہ منظر خلد کے دالان جیسا تھا

 

دلوں پر لکھ دیا قرآں ترے حسن تکلم نے

مؤثر کیوں نہ ہو لہجہ ترا رحمٰن جیسا تھا

 

زمانے میں نہیں منصف محمد مصطفیٰ جیسا

کہاں ایوان ان کے عدل کے ایوان جیسا تھا

 

تسلسل تھا صدائے مصطفیٰ کی گونج کا اس میں

دلِ خاصانِ آقا وادیِ فاران جیسا تھا

 

جو پوچھا خُلق کے بارے میں اُم المومنیں بولیں

کہ خُلقِ رحمۃ للعالمیں قرآن جیسا تھا

 

حدیث پاک سے تھی اس لئے الفت صحابہؓ کو

کہ ہر جملہ فروزاں آیتِ فرقان جیسا تھا

 

کیا ممتاز اس کو نعت گوئی کی سعادت نے

وگرنہ ہر صحابیؓ حضرتِ حسانؓ جیسا تھا

 

سنا ’’الفقرُ فخری’‘ جس نے تیرے دہنِ اقدس سے

ترے دربار کا نادار بھی سلطان جیسا تھا

 

یہ کہہ کر بھی نہ پہنچا منزلِ حسنِ تمنا تک

’’بدن کی رحل پر چہرا کھلے قرآن جیسا تھا’‘

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات