اردوئے معلیٰ

شوقِ بے حد، غمِ دل ، دیدہ تر مل جائے

مجھ کو طیبہ کے لیے رختِ سفر مل جائے

 

نامِ احمد کا اثر دیکھ جب آئے لب پر

چشمِ بے مایہ کو آنسو کا گُہر مل جائے

 

چشمِ خیرہ نگراں ہے رُخِ آقا کی طرف

جیسے خورشید سے ذرے کی نظر مل جائے

 

یادِ طیبہ کی گھنی چھاوں ہے سر پر میرے

جیسے تپتی ہوئی راہوں میں شجر مل جائے

 

نخلِ صحرا کی طرح خشک ہوں ، وہ ابرِ کرم

مجھ پہ برسے تو مجھے برگ و ثمر مل جائے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات