اردوئے معلیٰ

شوقِ دیدار ہے طاقِ امید پر

شوقِ دیدار ہے طاقِ امید پر

منحصر ہے کرم لائقِ دید پر

 

چہرۂ مصطفیٰ کی وہ تابانیاں

آنکھ ٹکتی نہیں رشکِ خورشید پر

 

صائمِ ہجر ہے کب سے بندہ ترا

ہو مری عید بھی یا نبی عید پر

 

ہم نے قرنوں کہی نعتِ سرور مگر

نعت پہنچی نہیں اب بھی تمہید پر

 

آج پھر اذنِ مدحت ہوا ہے عطا

آج پھر ہے قلم اوجِ ناہید پر

 

در بدر تھی جبیں نوعِ انسان کی

تو نے یکجا کیا بامِ توحید پر

 

کس کو معلوم تھا کون معبود ہے

ہم نے سجدے کیے تیری تاکید پر

 

جیب و دامانِ اشفاقؔ تو ہیں تہی

مجھ پہ ہوگا کرم تیری تائید پر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ