اردوئے معلیٰ

شوق و نیاز عجز کے سانچے میں ڈھل کے آ

یہ کوچۂ حبیب ہے پلکوں سے چل کے آ

 

امت کے اولیا بھی ادب سے ہیں دم بخود

یہ بارگاہِ سرور دیں ہے سنبھل کے آ

 

آتا ہے تو جو شہر رسالت مآب میں

حرص و ہوا کے دام سے باہر نکل کے آ

 

ماہِ عرب کے آگے تری بات کیا بنے

اے ماہتاب روپ نہ ہر شب بدل کے آ

 

سوز و تپش سخن میں اگر چاہتا ہے تو

عشقِ نبی کی آگ سے تائبؔ پگھل کے آ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات