اردوئے معلیٰ

شکر خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے

 

شکر خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے

بیٹھا ہوں رخت باندھ کے ، ساعت سحر کی ہے

رونق عجیب شہرِ بریلی میں گھر کے ہے

سب آ کے پوچھتے ہیں عزیمت کدھر کی ہے

شکرِ خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے

جس پر نثار جان فلاح و ظفر کی ہے

 

شوط و طواف و سعی کے نکتے سکھا دئیے

احرام و حلق و قصر کے معنیٰ بتا دئیے

رمی و وقوف و نحر کے منظر دکھا دئیے

اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرا دئیے

اصلِ مراد حاضری اس پاک در کی ہے

 

صوم و صلوۃ ہیں کہ سجود و رکوع ہیں

ہر چند شرع میں یہ اہم الوقوع ہیں

حبِ نبی نہ ہو تو یہ سب لا نفوع ہیں

ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں

اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے

 

جاں وار دوں یہ کام جو میرا صبا کرے

بعد از سلامِ شوق یہ پیش التجا کرے

کہتا ہے اک غلام کسی شب خدا کرے

ماہِ مدینہ اپنی تجلی عطا کرے

یہ ڈھلتی چاندنی تو پہر دو پہر کی ہے

 

سب جوہروں میں اصل ترا جوہرِ غنا

اس دھوم کا سبب ہے تری چشمِ اعتنا

ممنون تیرے دونوں ہیں ، بانی ہو یا بِنا

ہوتے کہاں خلیل و بِنا کعبہ و مِنیٰ

لولاک والے ! صاحبی سب تیرے گھر کی ہے

 

سر پر سجا کے حمد و ثنا کی گھڑولیاں

وہ عاشقوں کی بھیڑ ، وہ لہجے ، وہ بولیاں

جالی کے سامنے وہ فقیروں کی ٹولیاں

لب وا ہیں ، آنکھیں بند ہیں ، پھیلی ہیں جھولیاں

کتنے مزے کی بھیک ترے پاک در کی ہے

 

ہے دفترِ نسب میں یہ عزت لکھی ہوئی

قرطاسِ وقت پر ہے یہ خدمت لکھی ہوئی

پُشتوں سے گھر میں ہے یہ عبارت لکھی ہوئی

میں خانہ زادِ کہنہ ہوں ، صورت لکھی ہوئی

بندوں‌کنیزوں میں مرے مادر پدر کی ہے

 

ہر لمحہ آشنائے تب و تاب ہو گی آب

دنیائے آبرو میں دُرِ ناب ہو گی آب

ان کا کرم رہا تو نہ بے آب ہو گی آب

دنداں کا نعت خواں ہوں ، نہ پایاب ہو گی آب

ندی گلے گلے مرے آبِ گہر کی ہے

 

دم گھُٹ رہا تھا محبسِ قالب میں بے ہوا

تھا ملتجی نصیر کہ یارب چلے ہوا

اتنے میں‌ دی سروش نے آواز ، لے ہوا

سنکی وہ دیکھ ! بادِ شفاعت کہ دے ہوا

یہ آبرو رضا ترے دامانِ تر کی ہے

 

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دئیے ہیں

نورِ خدا نے کیا کیا جلوے دکھا دئیے ہیں

سینے کیے ہیں روشن ، دل جگمگا دئیے ہیں

لہرا کے زلفِ مشکیں نافے لٹا دئیے ہیں

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھِلا دئیے ہیں

جس راہ چل دئیے ہیں کوچے بسا دئیے ہیں

 

آنکھیں کسی نے مانگیں ، جلوا کسی نے مانگا

ذرہ کسی نے چاہا ، صحرا کسی نے مانگا

بڑھ کر ہی اُس نے پایا جتنا کسی نے مانگا

مرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا

دریا بہا دئیے ہیں ، دُر بے بہا دئیے ہیں

 

گر یوں ہی رنگ اپنا محشر میں زرد ہو گا

دوزخ کے ڈر سے لرزاں ہر ایک فرد ہو گا

تیرے نبی کو کتنا امت کا درد ہو گا

اللہ! کیا جہنم اب بھی نہ سرد ہو گا

رو رو کے مصطفیٰ نے دریا بہا دئیے ہیں

 

اپنے کرم سے جو دو ، اب تو تمہاری جانب

جو جی میں آئے سو دو ، اب تو تمہاری جانب

پا لو ہمیں کہ کھو دو ، اب تو تمہاری جانب

آنے دو یا ڈبو دو ، اب تو تمہاری جانب

کشتی تمہیں پہ چھوڑی ، لنگر اٹھا دئیے ہیں

 

لازم نہیں ہے کوئی ایسے ہی رنج میں ‌ہو

جاں پر بنی ہو یا پھر ویسے ہی رنج میں ہو

ان کا غلام چاہے جیسے ہی رنج میں ہو

ان کے نثار ، کوئی کیسے ہی رنج میں ہو

جب یاد آ گئے ہیں ، سب غم بھلا دئیے ہیں

 

اہلِ نظر میں تیرا ذہنِ رسا مسلم

دنیائے علم و فن میں ہے تیری جا مسلم

نزدِ نصیر تیری طرزِ نوا مسلم

ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم

جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دئیے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ