اردوئے معلیٰ

Search

شکر صد شکر یوں بہار آئی

چل پڑی حریت کی پُروائی

 

ایک قائد کی رہنمائی میں

قوم کی قوم نے شِفا پائی

 

خوب تعبیر پائی خوابوں کی

ایک خطے کی عالم آرائی

 

شب غلامی کی ہم گزار چکے

صبحِ آزادیٔ وطن آئی

 

صبحِ آزادیٔ وطن کیسی

روشنی انبساط کی لائی

 

وہ مسرت ہے سارے چہروں پر

سارا عالم ہوا تماشائی!

 

جذبۂ حریت کے صدقے میں

ہم نے اک دل نشیں فضا پائی

 

آخرش مل گیا سکوں دل کو

سعیٔ اسلاف اپنے کام آئی

 

کاش ہو جائے یہ زمیں اب تو

’’روکشِ سطحِ چرخِ مینائی‘‘٭

 

اس زمیں سے اُگیں مہ و انجم

چپہ چپہ وہ پائے رعنائی

 

کاش مل جائے بچے بچے کو

قائدِ قوم کی سی بینائی

 

حشر تک ملک یہ رہے قائم

پائے ہر فرد ایسی دانائی

 

عِزّ و جاہ و حشم میسر ہو

ہم کریں تا ابد وہ دارائی

 

فتح مندی ہماری قسمت ہو

دشمنوں کے لیے ہو پسپائی

 

بن سکے اب عزیزؔ بھی یا رب

دین و دنیا میں حق کا سودائی

 

صبحِ آزادیِ وطن:٭غالبؔ،۲۹؍شوال۱۴۳۷ھ… مطابق:۳؍اگست۲۰۱۶ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ