شکوہِ ترکِ آرزو نہ گلہ

شکوہِ ترکِ آرزو نہ گلہ

ان کوئی بات ہی نہیں باقی

 

بات باقی بھی ہو کیا کہیے

جب یہاں کوئی بھی نہیں باقی

 

محفلِ شب میں خاک اڑتی ہے

چاند میں روشنی نہیں باقی

 

شعر لفظوں کا جھمگٹا ٹھہرے

فکر میں دل کشی نہیں باقی

 

جس قدر فاصلے ابھر آئے

اس قدر زندگی نہیں باقی

 

اب جنوں مصلحت پرست ہوا

عشق کی سادگی نہیں باقی

 

ایک افسوس ہے کہ باقی ہے

اور صورت کوئی نہیں باقی

 

کم اگر ہے تو وقت ہے ناصر

اور کوئی کمی نہیں باقی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ