شہرِ نبی کے سامنے آہستہ بولیے

شہرِ نبی کے سامنے آہستہ بولیے

دھیرے سے بات کیجیے آہستہ بولیے

 

اُن کی گلی میں دیکھ کر رکھیے ذرا قدم

خود کو بہت سنبھالیے آہستہ بولیے

 

ان سے کبھی نہ کیجیے اپنی صدا بلند

پیشِ نبی جو آیئے آہستہ بولیے

 

شہرِ نبی ہے شہرِ ادب کان دھر کے دیکھ

کہتے ہیں اس کے رستے آہستہ بولیے

 

ہر اک سے کیجیے گا یہاں مسکرا کے بات

جس سے بھی بات کیجیے آہستہ بولیے

 

آداب یہ ہی بزمِ شہِ دو جہاں کے ہیں

سر کو جھکا کے آئیے آہستہ بولیے

 

امجدؔ وہ جان لیتے ہیں سائل کے دل کی بات

پھر بھی جو دل مچل اُٹھے آہستہ بولیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ