اردوئے معلیٰ

Search

شہر جاتے ہیں جو ماحول بدل لیتے ہیں

وہ محبت کے سبھی قول بدل لیتے ہیں

 

وقت آتا ہے تو احساس کا در کھلتا ہے

لوگ سانپوں کی طرح خول بدل لیتے ہیں

 

آلہ ء قتل پہ ہونگے ترے ہاتھوں کے نشاں

چل مرے دوست یہ پستول بدل لیتے ہیں

 

چیخ پڑتے ہیں کہ کم ہو یہ اذیت ناکی

وقت کیسا بھی ہو پرہول بدل لیتے ہیں

 

مطلبی ان کو بھی تاریخ میں لکھا جائے

یہ پرندے بھی اگر غول بدل لیتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ