اردوئے معلیٰ

کیا بتاؤں کہ اصغر پہ لکھتے ھُوئے وقت کیسا کٹا

کیوں نظر خُوں ھُوئی، کیا رگیں چِر گئیں، کب کلیجہ کٹا

 

سوچیے کتنا مُنّا سا ھوتا ھے چھ ماہ کا شیر خوار

ایک ھی تیر سے چہرہ چھلنی ھُوا اور سینہ کٹا

 

کُوفیوں سے کہو بی بی زینب کے دل سے کبھی پوچھ لیں

کیسے لختِ جگر کے بِنا عُمر کا لمحہ لمحہ کٹا

 

عرش پر خود خُدائے مُحمد کی آنکھیں بھی نم ھوگئیں

شاہ کی گود میں جب بِلکتا ھوا شاھزادہ کٹا

 

جیسے قُرآن کی سب سے چھوٹی صدا یعنی کوثر تھمی

اور غلافِ حرم پاک کا ایک ننھا سا ٹکڑا کٹا

 

حُرملہ ! تیرے حملے سے پہلے وہ گُل پیاس کے تیر سے

لحظہ لحظہ چِھلا، ھولے ھولے چِھدا، تھوڑا تھوڑا کٹا

 

اُن بہتَّر میں فارس اکہتر کا غم تو ھے اپنی جگہ

لیکن اُس شام کٹ جانے والوں میں جو سب سے چھوٹا کٹا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات