اردوئے معلیٰ

صاحبِ حُسن و جمال! آیا ہوں

بے بسی کی مثال، آیا ہوں

 

مُجھ پہ سرکار ایک نگہِ کرم

میں پریشان حال آیا ہوں

 

میں تہی دست، برگِ آوارہ

عکسِ حزن و ملال آیا ہوں

 

ہیں مجسم عطا مرے آقا

میں مجسم سوال آیا ہوں

 

دِل میں سرکار اب قدم رکھیں

سب کو دِل سے نکال آیا ہوں

 

ہجر کی تلخیوں سے گھبرا کر

میں برائے وصال آیا ہوں

 

گرتے پڑتے ظفرؔ حرم تک میں

سب کو حیرت میں ڈال آیا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات