اردوئے معلیٰ

صبا سے یہ کہہ دو جناں چھوڑ آئے

صبا سے یہ کہہ دو جناں چھوڑ آئے

جہاں مصطفیٰ ہیں وہاں چھوڑ آئے

 

مرے مصطفیٰ کو خدا سے ملانے

زمیں پر مَلَک ، آسماں چھوڑ آئے

 

پریشان ہیں جو مدینے سے لوٹے

نجانے سکوں کو کہاں چھوڑ آئے

 

کروں دم بہ دم گر ثناے محمد

تو جنت میں مجھ کو زباں چھوڑ آئے

 

اگر دیکھ لے کوئی شہرِ مدینہ

رہے شاد ہر دم فغاں چھوڑ آئے

 

سہارا وہی ہیں سبھی عاصیوں کا

سبھی فکرِ سود و زیاں چھوڑ آئے

 

اُدھورے سے آئے ہیں طیبہ سے زائر

بدن ساتھ لائے ہیں جاں چھوڑ آئے

 

بلا لیجیے آپ آسیؔ کو در پر

زمانے کو سارے یہاں چھوڑ آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ