اردوئے معلیٰ

صبحِ آزادی

آفتابِ صبحِ آزادی ہوا پھر ضو فگن

مژدہ باد اے ساکنانِ خطّۂ پاکِ وطن

 

مسکراہٹ دل ربا ہے غنچۂ لب بستہ کی

رقص میں بادِ سحر ہے آئی پھولوں کو ہنسی

 

چہچہاتے پھر رہے ہیں طائرانِ خوش نوا

صحنِ گلشن کی فضا ہے روح پرور دل کشا

 

ہے نظر افروز سبزہ کی ردائے اخضری

سازِ فطرت کی صداؤں سے فضا میں نغمگی

 

کوچہ و بازار و دوکان و مکاں سجنے لگے

لیجئے وہ ہر طرف سازِ طرب بجنے لگے

 

غمزدہ بھی خوش ہوئے کر کے غمِ دل بر طرف

ہے جو ماحولِ مسرت دائیں بائیں ہر طرف

 

کتنی تلخی اس نشاط و کیف میں روپوش ہے

بادۂ عشرت کی سر مستی میں کس کو ہوش ہے

 

کس لئے چاہا گیا تھا اک وطن اندر وطن

اس کا پس منظر بھی دیکھیں نوجوانانِ چمن

 

بالمقابل جس کے کوئی شے نہیں رہتی عزیز

جذبۂ دیں اللہ اللہ ہے جہاں میں ایسی چیز

 

جانبِ گرداب و طوفاں ناؤ کو کھیتا ہے کون

جان اپنی خون اپنا بے سبب دیتا ہے کون

 

ملّتِ مسلم کا لیکن اس میں مستقبل نہ تھا

دورِ محکومی میں ہم کو ویسے کیا حاصل نہ تھا

 

انتظارِ موسمِ خوش کر رہے تھے چارہ گر

دردِ پنہاں تھا علاجِ دردِ پنہاں تھا مگر

 

عظمتِ اسلام و تنفیذِ شریعت کے لئے

چاہئے تھی اک زمیں دیں کی سیادت کے لئے

 

اک نئی منزل عروجِ آدمیت کے لئے

ایک میداں اپنی تہذیب و ثقافت کے لئے

 

آرزوؤں اور منزل کا نشاں بن کر اٹھے

قائدِ اعظم امیرِ کارواں بن کر اٹھے

 

پھر نہ پوچھیں جو ہوئے تھے واقعاتِ دل شکن

جہدِ پیہم سے جب ان کی بن گیا اپنا وطن

 

خانۂ کافر میں اس خوں سے چراغاں ہو گیا

مسلمِ ہندوستاں کا خون ارزاں ہو گیا

 

دل کو تڑپاتا رہے گا وہ زمانہ تا ابد

ہندوؤں سکھوں کا اف وہ کینہ و بغض و حسد

 

کچھ نظر آتا نہ تھا ہر سمت جز خونِ رواں

قریہ قریہ آگ بھڑکائی لئے تیغ و سناں

 

جس کو کھانے آ گئے تھے گُرسنہ زاغ و زغن

ہر طرف بکھری تھیں لاشیں اور بے گور و کفن

 

شیر خواروں پر قیامت کی مصیبت آ گئی

ماؤں بہنوں بیٹیوں کی چادرِ عصمت لٹی

 

کارواں کے کارواں پھر سوئے پاکستاں چلے

خانہ ویراں ہو چکے جب ساز و ساماں لٹ چکے

 

سینہ بریاں سوختہ جاں آخرش پہنچے یہاں

سر برہنہ پا پیادہ دل شکستہ نیم جاں

 

جس جگہ کرنی تھی تعمیرِ حیاتِ اخروی

دیکھنا ہے ہم نفس کیا ہے یہ پاکستاں وہی

 

ہاں نہیں ہرگز نہیں یہ سر زمیں وہ سرزمیں

کہہ رہا ہوں سچ کہ مجھ کو جھوٹ کی عادت نہیں

 

ہے بہت ہی دل شکن تعبیرِ خوابِ آرزو

فی الحقیقت یہ تو نکلا اک سرابِ آرزو

 

نے وہی بربط وہی نغمہ وہی اور لے وہی

نظمِ میخانہ وہی جام و سبو اور مئے وہی

 

صاعقے صرصر وہی مسکن اگر بدلا تو کیا

گل وہی نکہت وہی گلشن اگر بدلا تو کیا

 

ناقۂ لیلیٰ وہی لیلیٰ وہی محمل وہی

تیزی خنجر وہی زاری وہی بسمل وہی

 

چارہ گر بدلے ہیں بے شک پر ہے سوزِ دل وہی

راہبر بدلے ہیں لیکن جادہ و منزل وہی

 

نالہ و شیون وہی اب تک وہی فریاد ہے

دام ہے صیدِ زبوں ہے پنجۂ صیاد ہے

 

آج بھی سب کچھ وہی ہے جو نظر آتا تھا کل

مختصر یہ گر پڑے سارے تصور کے محل

 

اوجِ دیں اوجِ شریعت اوجِ قرآں دیکھئے

رہ گئی حسرت مسلماں کو مسلماں دیکھئے

 

حال کا پردہ سیہ تر پردۂ ماضی سے ہے

بعدِ آزادی تو بد تر قبلِ آزادی سے ہے

 

خوشبوئے دیں سے نظرؔ یہ گلستاں مہکائیں ہم

عہدِ پاکستاں کو آ اے ہم نفس دہرائیں ہم

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ