اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

صبح آتا ہوں یہاں اور شام ہو جانے کے بعد

 

صبح آتا ہوں یہاں اور شام ہو جانے کے بعد

لوٹ جاتا ہوں میں گھر ناکام ہو جانے کے بعد

 

ڈھانپ دیتے ہیں ہوس کو عشق کی پوشاک میں

لوگ سارے شہر میں بدنام ہو جانے کے بعد

 

اک ہجومِ یاد ہوگا اِن گلی کوچوں کے بیچ

دیکھ شہرِ دل کی رونق شام ہو جانے کے بعد

 

یاد کرنے کے سوا اب کر بھی کیا سکتے ہیں ہم

بھول جانے میں تجھے ناکام ہو جانے کے بعد

 

خود جسے محنت مشقت سے بناتا ہوں جمال

چھوڑ دیتا ہوں وہ رستہ عام ہو جانے کے بعد

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں
ھجر میں ھے یہی تسکین مُجھے
وہ روٹھی روٹھی یہ کہہ رہی تھی قریب آؤ مجھے مناؤ
پڑھا گیا مرا روزِ جزا جو نامہِ عشق
تحریر سنبھالوں ، تری تصویر سنبھالوں
پھول کھلا روِش روِش ، نُور کا اہتمام کر
خُدا نے تول کے گوندھے ہیں ذائقے تم میں
اچھا ہوا بسیط خلاؤں میں کھو گئے
تم نے یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کیا؟
چکھنی پڑی ہے خاک ہی آخر جبین کو