اردوئے معلیٰ

صبح بھی آپ سے شام بھی آپ سے

صبح بھی آپ سے شام بھی آپ سے

میری منسوب ہر اک گھڑی آپ سے

 

میرے آقا میرا تو یہ ایمان ہے

دونوں عالم کی رونق ہوئی آپ سے

 

آپ میرے تصور کی معراج ہیں

میرے کردار میں روشنی آپ سے

 

گر گیا تھا خود اپنی نظر سے بشر

آج اس کو ملی برتری آپ سے

 

آپ خالق کی بے مثل تخلیق ہیں

کیسے لیتا کوئی برتری آپ سے

 

کہکشاں ہی نہیں ان کی گردِ سفر

چاند کو بھی ملی چاندنی آپ سے

 

قبر میں آس عشق نبی ساتھ ہو

اے خدا التجا ہے یہی آپ سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ