صبح بھی آپؐ سے شام بھی آپؐ سے

صبح بھی آپؐ سے شام بھی آپؐ سے

میری منسوب ہر اک گھڑی آپؐ سے

 

میرے آقا میرا تو یہ ایمان ہے

دونوں عالم کی رونق ہوئی آپؐ سے

 

آپ میرے تصور کی معراج ہیں

میرے کردار میں روشنی آپؐ سے

 

گر گیا تھا خود اپنی نظر سے بشر

آج اس کو ملی برتری آپؐ سے

 

آپؐ خالق کی بے مثل تخلیق ہیں

کیسے لیتا کوئی برتری آپؐ سے

 

کہکشاں ہی نہیں ان کی گردِ سفر

چاند کو بھی ملی چاندنی آپؐ سے

 

قبر میں آس عشق نبی ساتھ ہو

اے خدا التجا ہے یہی آپؐ سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
قافلے سارے مدینے کو چلے جاتے ہیں
یہ دنیا سمندر ، كنارا مدینہ
مصطفےٰ آپ ہیں مرتضٰے آپ ہیں
قدرتِ حق کا شہکارِ قدرت اک نظردیکھ لوں دور ہی سے
کب چھڑایا نہیں ہم کو غم سے کب مصیبت کو ٹالا نہیں ہے
ہوش و خرد سے کام لیا ہے
دھڑک رہا ہے محمدؐ ہمارے سینے میں
سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں
مجرمِ ہیبت زدہ جب فردِ عصیاں لے چلا