اردوئے معلیٰ

صحرا بھی چمکتے ہیں گلزار چمکتے ہیں

جو بھی ہیں مدینے میں کہسار چمکتے ہیں

 

مسجد بھی چمکتی ہے مینار چمکتے ہیں

سرکار دوعالم کے گھر بار چمکتے ہیں

 

اب فرط مسرت سے دیوانو مچل جاؤ

وہ دیکھو مدینے کے مینار چمکتے ہیں

 

ہم لوگوں کی آنکھوں میں اللہ کی رحمت سے

سرکار دوعالم کے پیزار چمکتے ہیں

 

سرکارِ دو عالم کے جو بھی ہیں گدا ان کے

شاہوں سے کہیں بڑھ کر دربار چمکتے ہیں

 

اس طرح سے خلقت میں چمکا ہی نہیں کوئی

جس طرح دوعالم کے مختار چمکتے ہیں

 

جو اُن کے فدائی ہیں مولی کی عطا دیکھو

قرآن میں بھی ان کے اذکار چمکتے ہیں

 

گھبراتے ہو کیوں گوہر امید شفاعت ہے

وہ دیکھو سر محشر سرکار چمکتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات