اردوئے معلیٰ

ضبط کے امتحان سے نکلا

پھُول آخر چٹان سے نکلا

 

جان تن سے نکل گئی لیکن

تُو نہیں میرے دھیان سے نکلا

 

نہ نکلنے پہ تھا بضِد سُورج

پھر کسی کی اذان سے نکلا

 

شجرہ دیکھا گیا تو پتھّر بھی

پھُول کے خاندان سے نکلا

 

اب مکمل ھوئی ھے یکجائی

عشق بھی درمیان سے نکلا

 

دے گیا آنکھ کو نمی کا وقار

سچا آنسُو تھا ، شان سے نکلا

 

دیکھتا تھا چراغ بن کر مَیں

سایہ سا اُس مکان سے نکلا

 

کیا کہا ؟ اب مری ضرورت نئیں ؟

جا ! تُو میری امان سے نکلا

 

میری دستک پہ رات عکس ترا

آئنے کے جہان سے نکلا

 

اُن لبوں پر یقین کرکے مَیں

شہرِ وھم و گمان سے نکلا

 

داستاں گو کو مارنے کے لیے

سامری داستان سے نکلا

 

تِیر سا کچھ پلک جھپکتے ھی

ابرُووں کی کمان سے نکلا

 

گو نکالا گیا وھاں سے مگر

مَیں بڑی آن بان سے نکلا

 

جس کو پاتال میں کِیا تھا دفن

ساتویں آسمان سے نکلا

 

اب ھُوں نادم کہ طیش میں فارس

جانے کیا کیا زبان سے نکلا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات