اردوئے معلیٰ

ضیائے سدرہ و طوبیٰ و کل جہاں روشن

 

ضیائے سدرہ و طوبیٰ و کل جہاں روشن

انہی کے ذکر سے ہیں یہ زمیں ،زماں روشن

 

حضور بہرِ کرم میرے گھر میں آئیں گے

کبھی تو میرا بھی ہو جائے گا مکاں روشن

 

یہ فیض ان کے ہی نعلینِ نور بار کا ہے

خرام ناز سے جن کے ہے کہکشاں روشن

 

نقابِ نور ہے ان کے حسین چہرے پر

وفورِ نور سے ہے پھر بھی ہر زماں روشن

 

درود آپ پہ پڑھتا ہوں اس یقین کے ساتھ

ہو میرے واسطے آگے کا ہر جہاں روشن

 

بہ فیضِ نعت یہ منصب تجھے ملا منظرؔ

ہوئی ہیں فکر کی تیری بھی بستیاں روشن

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ