طبیعت فطرتاََ پائی سخن کے واسطے موزوں

 

طبیعت فطرتاََ پائی سخن کے واسطے موزوں

ہے واجب اس لئے مجھ پر ثنائے مصطفیٰؐ لکھوں

 

کرشمہ کاری دستِ ازل سے ذات میں پاؤں

مرقع حسن کا ہے قامتِ زیبائے گندم گوں

 

کشادہ لوحِ پیشانی خوشا وہ گیسوئے شبگوں

خمِ ابرو ہلال آسا وہ آنکھیں مست و پر افسوں

 

رخِ انور کی تابانی کی میں تمثیل کس سے دوں

ضیائے ماہِ گردوں یوں نہ نورِ ماہِ کنعاں یوں

 

کسے تکتا رہوں کس چیز سے صرفِ نظر کر لوں

ہیں لب یاقوت، دندانِ مبارک ہیں دُرِ مکنوں

 

تمام اخلاق پاکیزہ زباں میٹھی سخن شیریں

تبسم زیرِ لب ایسا شگوفہ مسکرائے جوں

 

محمدؐ نامِ نامی ہے خدا کا منتخب کردہ

ہے اسمِ با مسمّیٰ چاہے جس انداز سے پرکھوں

 

چھپا رکھا تھا پردوں میں ازل کے جس کو خالق نے

خوشا قسمت کہ اس امت کو بخشا وہ دُرِ مکنوں

 

دلاور شیر افگن وہ سپہ سالارِ اعظم وہ

مصافِ کفر و ایماں میں اسے خنجر بکف دیکھوں

 

کلوخ اندازی اہلِ ستم طائف کی گلیوں میں

وہ کفشِ پاک تک پہنچی چلی جو سر سے موجِ خوں

 

خدا نے دے دیا سب کچھ بہ شکلِ مصطفیٰؐ مجھ کو

مجھے تو شرم آتی ہے خدا سے اور کیا مانگوں

 

ترے باعث مدینہ قبلۂ اہلِ محبت ہے

جھکا رہتا ہے از پاسِ ادب اس جا سرِ گردوں

 

ترے نعلینِ پا کی خاک مل جائے اگر مجھ کو

تو میں سمجھوں کہ مجھ کو مل گیا گنجینۂ قاروں

 

مئے باطل کی بو بھی ناگوارِ طبع ہے مجھ کو

بحمد اللہ میں تو تیرے میخانہ کی پیتا ہوں

 

نکیرین آ کے آخر کیا کریں گے قبر میں میری

اگر آئے تو کہہ دوں گا ثنا خوانِ محمدؐ ہوں

 

کُنہ معراج کی عقلِ بشر میں آ نہیں سکتی

کہ پیچ و تاب اس مضموں میں کھائے عقلِ افلاطوں

 

سلامِ عاجزانہ کیوں نہ اس ہستی پہ سب بھیجیں

فلاحِ دین و دنیا کے لئے ہیں جس کے سب ممنوں

 

کرم سے اپنے دکھلا دے نظرؔ کو روضۂ انور

ہے روز افزوں خداوندا تقاضائے دلِ محزوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بعد ثنائے ربِّ معظَّم، نعتِ نبی ہو جاری پیہم
باعثِ فخر ہے یہ خواب کی بات
خدا کی خاص رحمت اور کرم سے 
پھر قصیدہ حُسن کا لکھا گیا
شہِ بطحا کی یہ چوکھٹ ہے، پشیماں کیوں ہے
ہر گھڑی ہے تمنا یہی یا نبی
شجر کے دل میں گھاؤ کر گیا ہے
لبوں سے اسمِ محمد کا نور لف کیا ہے
اذاں میں اسمِ نبی سن لیا تھا بچپن میں
ترے نام کے نور سے ہیں منور مکاں بھی مکیں بھی

اشتہارات