اردوئے معلیٰ

طلعتیں عام ہوئیں، زیست کا پایا ہے سراغ

طلعتیں عام ہوئیں، زیست کا پایا ہے سراغ

نُطق کے طاق میں چمکا تری مدحت کا چراغ

 

ہوسِ تام نے احساس پہ ڈالی ہے کمند

مصدرِ فیضِ اَتم ! دھو مرے دامان کے داغ

 

ایک ہی شعر میں مہکا تھا وہ اسمِ عالی

دشتِ احساس میں کھِلنے لگے تحسین کے باغ

 

دل نے جھٹلائی نہیں رویتِ معراجِ نظر

شدتِ دید سے جھپکی نہیں چشمِ ما زاغ

 

اسم کے ورد نے آسودہ رکھی طبعِ حزیں

نعت کے شوق نے بخشا غمِ وحشت سے فراغ

 

کیسے تجسیم کریں شعر ترے شوق کے رنگ

نہیں الفاظ سے ممکن تری مدحت کا بلاغ

 

کچھ نہیں خواہشِ اظہار بجُز نعتِ نبی

لِلّہِ الحمدکہ رکھا ہے سخن کو بے داغ

 

چھُو نہیں سکتی عقیدت تری مدحت کا علو

سر پٹکتا ہے سرِ نُطق وُفورِ ابلاغ

 

نقش کرتا ہُوں تصور میں مدینے کی نمود

صیغۂ شوق بنا دیتا ہے دستِ صیّاغ

 

موجۂ اذن سے کھِلتے ہیں ثنا کے موسم

نُطق کو نعت بناتے ہیں کرم بار ایاغ

 

سانس در سانس ہے مقصودؔ وہی اسم حیات

کارِ مدحت میں ہی مشغول ہے دل ہو کہ دماغ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ