اردوئے معلیٰ

طُرفہ انداز لیے اُن کے کرم کی صورت

طُرفہ انداز لیے اُن کے کرم کی صورت

باقی رہنے ہی نہیں دیتی ہے غم کی صورت

 

صورتِ ابرِ مطیرہ ہے ترا دستِ عطا

حرف تجسیم کریں کیسے نِعَم کی صورت

 

ویسے تو شہرِ مدینہ ہے تمثل سے ورا

بہرِ تفہیم لکھوں رشکِ ارَم کی صورت

 

آنکھ تو جیسے ترے نعلِ ضیا بار کا نقش

دل کو تصویر کریں زُلف کے خَم کی صورت

 

جس نے بخشا ہے زمانوں کو تفاخر یکسر

کاش میری بھی ہو اُس خاک میں ضَم کی صورت

 

دستِ خلاّق نے کھینچے تھے کئی نقش، مگر

تیری صورت سے ہُوئی نقشِ اَتم کی صورت

 

آپ کے آنے سے معدوم ہُوا ہے معلوم

ورنہ معلوم بھی تھا خوابِ عدم کی صورت

 

بزمِ توثیق، شبِ اوج، نفوذِ محشر

ایک اِک ہے ترے اظہارِ حشَم کی صورت

 

ملتا ہے تیرے فقیروں کو تقاضے سے سِوا

تیرے ہاں بنتی نہیں عجز یا کم کی صورت

 

توشۂ رزق ترا ریزئہ خوانِ نعمت

چشمۂ لطف ترے قطرئہ یم کی صورت

 

اُن کو بھی شایاں ہے بے صوت عقیدت کا خراج

مَیں بھی مقصودؔ ہُوں بس، دیدئہ نم کی صورت

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ