اردوئے معلیٰ

طُوفانی رات کے چند شعر

رفتہ رفتہ رات آئی بڑھ گیا پُروا کا شور

بادلوں کی فوج نے مل کر مچایا اک شور

 

پھر ذرا سی دیر میں جھکڑ چلا اک زور کا

پیش خیمہ بن کے اِک طوفان کا آئی ہوا

 

دُور اُفق پر چھا گئی گھنگھور اور کالی گھٹا

مست ہاتھی کی طرح جھومی وہ متوالی گھٹا

 

کس قدر کالی ، بھیانک بد رنگ اور خوفناک

رات ، جنگل ، تیرگی ، وحشت ، خموشی اور خاک

 

مِل رہے تھے پٹ زمین و آسماں کے اُس طرف

بج رہا تھا ساحرِ شب کا ہراس انگیز دَف

 

چیختی تھی اور گھبرائی سی پھرتی تھی ہوا

چور جیسے پیچھا کرنے والوں سے سہما ہوا

 

زور کا کڑکا ہوا چھاتی زمیں کی ہِل گئی

بادلوں کی فوج کو گویا اجازت مل گئی

 

ابر کے گھوڑے بنائے ساکنانِ چرخ نے

آگ کے کوڑے اٹھائے ساکنانِ چرخ نے

 

آسماں پر ہو رہا تھا آگ اور پانی کا کھیل

آج میں نے صاف دیکھا آگ اور پانی کا میل

 

آگ ، پانی اور ہوا تینوں میں سازش دیکھ کر

خاک کو برباد کر دینے کی کوشش دیکھ کر

 

اہلِ دل نے ہاتھ اُٹھائے ” خیر ہو پروردگار!

ہم گنہگاروں کی آنکھیں ہو چلی تھیں اشکبار ”

 

زور کا آیا تریڑا ، بہہ چلی پانی کی دھار

مست تھے بادل فلک پر اور ہوا بے اختیار

 

آگ پانی اور ہوا کا دل شکن طوفان تھا

خاک سے لڑنے کی خاطر کس قدر سامان تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ