طیورِ فکر جو ان کے خیال تک پہنچے

طیورِ فکر جو ان کے خیال تک پہنچے

ہمارے رنج و الم عرضِ حال تک پہنچے

 

سجائے ہجرِ مسلسل نے نعت کے مصرعے

براہِ مدحتِ سرور وصال تک پہنچے

 

مرے کریم نے حاجت روائی پہلے کی

یہ ہونٹ بعد میں حرفِ سوال تک پہنچے

 

حسِین ہو گی ستاروں کی کہکشاں لیکن

نہیں مجال کہ گردِ نعال تک پہنچے

 

ہمارا فن تو فقط نا تمام خواہش تھا

حروف نعت ہوئے تب کمال تک پہنچے

 

خجیل ہو کے قمر بادلوں میں چھپ جائے

نگاہ اس کی اگر ان کے گال تک پہنچے

 

ستارے بن کے بلندی پہ جگمگانے لگے

جو خوش نصیب شہِ خوش خصال تک پہنچے

 

مدینے پہنچے تو اشفاق میرے دل نے کہا

ہمارے زخمِ کہن اندمال تک پہنچے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

قلب کو بارگہِ شاہ سے لف رکھتا ہوں
جس شخص نے کی آپؐ سے وابستگی قبول
ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
اے راحتِ جاں باعثِ تسکین محمدؐ
شوق و نیاز عجز کے سانچے میں ڈھل کے آ
محبوبِؐ دل نواز سراپا کمال ہے
ہوگی کب خدمت سرکار میں میری طلبی
اے دلرباؐ اے دلنشیںؐ
جادہء مدینہ ہے اور کارواں اپنا
لوحِ دل پر نقش ہے نقشِ کفِ پا آپ کا

اشتہارات