اردوئے معلیٰ

عاصیوں پر رحمتیں اپنی لٹانے آگئے

آج محبوبِ خدا دنیا سجانے آگئے

 

دل نے لفظوں سے کہا تم نعت کی صورت بنو

اشک بھی شامل ہوئے باہم ملانے آگئے

 

آمنہ کا لال جھولے میں تھا محوِ خواب جب

سدرہ سے جبریل تب جھولا جھلانے آگئے

 

سخت دل لوگوں نے انکارِ نبوت جب کیا

جھوم کر پتھر انہیں کلمہ سنانے آگئے

 

غار میں صدیق کی یاری سے پائی تقویت

ایک مکڑی دو کبوتر بھی دہانے آگئے

 

مال سارا وار ڈالا حرمتِ سرکار پر

یار چاروں جان تک اپنی لٹانے آگئے

 

ناز کر تو اے حلیمہ وہ ہوا تجھ پر کرم

مصطفٰی خود بکریاں تیری چَرانے آگئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات