عاصی تو ہوں مگر مجھے الفت نبی سے ہے

عاصی تو ہوں مگر مجھے الفت نبی سے ہے

دعوے کو نورِ صدق و صفا کی دلیل دے

حبِّ نبی کے صدقے میں ہو مغفرت عطا

اظہار کے لیے مجھے فکرِ جمیل دے

۰۰۰

میرا قلم ہو سیف کے مانند اور میں

شامل مجاہدینِ قلم میں سدا رہوں

سرکار کے طفیل سعادت ملے مجھے

میں تا حیات شعرِ عقیدت لکھا کروں

۰۰۰

حَیَّ عَلَی الثَّنا کی صدائیں لگاؤں میں

اخلاص کی کشش بھی ہو میری پکار میں

رُوْحُ الْقُدُس کی مجھ کو بھی امداد چاہیے

ہو فکر میری نورِ یقیں کے حصار میں

۰۰۰

 

مجھ کو جمالِ فن ہو عطا مدح کے لیے

جو کچھ بھی میں لکھوں وہ نہایت حسین ہو

سرکار کے جمال کو لفظوں میں ڈھال دوں

تحریر میری پرتوِ عین الیقین ہو

۰۰۰

ہر بات ہو سند کے مطابق مری درست

ہر حرف میں محبتِ آقا کا نور ہو

ہر لفظ، سچ کا آئینہ بردار ہی رہے

ہر شعر میں صداقتِ دیں کا ظہور ہو

۰۰۰

مدحت نگارِ سرورِ کونین کے لیے

یارب! تمام باب فصاحت کے کھول دے

شیرینیٔ کلام کی حاجت ہے حرف حرف

لفظوں میں شہد، حرفوں میں سچائی گھول دے

 

دعائے حرمِ نبوی مسجدِ نبوی شریف میں لکھی گئی۔
ہفتہ:[پاکستانی رویتِ ہلال کے مطابق]۱۲؍رجب ۱۴۳۶ھ۔۲؍مئی ۲۰۱۵ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

فکر جب دی ہے مجھے اس میں اثر بھی دیدے
خاکم بدہن کچھ ہیں سوالات بھی سر میں
مدح کب تک شہِ کونین ! شنیدہ لکھوں
تذکرے چاروں طرف شاہِ اُمم ! آپ کے ہیں
شوقِ اظہارِ عقیدت
ممکن نہیں ہے مدحتِ سرکارِ دو جہاں
حضور! میری طرف بھی نگاہِ لطف و کرم
اُنؐ کی دہلیز پہ سر جب بھی کیا خم ہم نے
یارَبّ میں صبح و شام حرم دیکھتا رہوں
شعلۂ خورشید