اردوئے معلیٰ

Search

 

عالم کو حقیقت کی ہوا تک نہیں آئی

محبوب سے پہلے تو ندا تک نہیں آئی

 

محبوب کے قدموں میں لگی آنکھ تو ایسی

آواز کبھی، بانگ درا تک نہیں آئی

 

فیضانِ نبی سے یہ سلیقہ ہے وگرنہ

عالم کو تو جینے کی ادا تک نہیں آئی

 

سوچا تھا کہ جائیں گے تو مانگیں گے بہت کچھ

روضے پہ جو آئے تو دعا تک نہیں آئی

 

سجدے میں سلیقہ بھی تو گل فیض نبی ہے

پہلے تو ہمیں ایسی ادا تک نہیں آئی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ