اردوئے معلیٰ

عالم کی ابتدا بھی ہے تو ، انتہا بھی تو

سب کچھ ہے تو ، مگر ہے کچھ اس کے سوا بھی تو

 

کندہ درِ ازل پہ ترا اسمِ پاک تھا

قصرِ ابَد میں گونجنے والی صدا بھی تو

 

فردا و حال و ماضئ انساں یہی تو ہے

تو ہی تو ہو گا ، تو ہی تو ہے اور تھا بھی تو

 

یوں تو مرے ضمیر کا مسند نشیں بھی ہے

لیکن ہے شش جہات میں جلوہ نما بھی تو

 

تو میرِ کارواں بھی ہے ، سَمتِ سفر بھی ہے

میرا امام بھی ، مرا قبلہ نما بھی تو

 

بے اجْر تیرے در سے نہ پلٹے گی میری نعت

اک اور نعت کا مجھے دے گا صلہ بھی تو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات