اردوئے معلیٰ

عالم ہمہ صورت ہے، گر جان ہے تو تُو ہے

عالم ہمہ صورت ہے، گر جان ہے تو تُو ہے

سب ذرّے ہیں گر مہر، درخشاں ہے تو تُو ہے

 

سب کو ہے خیال اپنا، نہیں کوئی کسی کا

محشر میں اگر اُمتی گویاں ہے تو تُو ہے

 

پروانہ کوئی شمع کا، بلبل کوئی گُل کا

اللہ ہے شاہد، مرا جاناں ہے تو تُو ہے

 

طالب ہوں ترا، غیر سے مطلب نہیں مجھ کو

گر دین ہے تو تُو ہے، ایمان ہے تو تُو ہے

 

عرصات کے میدان میں اے دامنِ سلطاں

مجھ بے سر و سامان کا جو ساماں ہے تو تُو ہے

 

اے روئے منور کے تصور تیرے قرباں

اک روشنی گورِ غریباں ہے تو تُو ہے

 

اے چشم نبی کون ہے محشر میں حسنؔ کا

ہاں پیشِ خدا عفو کو گریاں ہے تو تُو ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ