عام ہے سرکار کا فیضانِ خاص

عام ہے سرکار کا فیضانِ خاص

بے سبب ہم کو نہیں ایقانِ خاص

 

بہرہ یابِ فوز ہوں گے امتی

جب شفاعت کا ہُوا فرمانِ خاص

 

کوچۂ شہرِ ثنا کی چاکری

اے کرم خُو ! ہے ترا احسانِ خاص

 

کیا عجب محشر میں ہو گی آپ کی

منصبِ محمود پر وہ شانِ خاص

 

بٹ رہا ہے آپ کی دہلیز سے

کُل جہاں میں رزقِ خیرِ خوانِ خاص

 

بامِ ’’ اَواَدنیٰ ‘‘ کا اوجِ لم یزل

دیکھتا تھا رفعتِ مہمانِ خاص

 

نعت ، نسبت ، نام ، ناگفتہ طلب

کم ہے کیا بخشش کا یہ سامانِ خاص

 

حرف سے اظہار کے امکان تک

نعت ہے توفیق کا میلانِ خاص

 

کیا ہمیں محشر کی گرمی کا ہو غم

سایہ گُستَر اُن کا ہے دامانِ خاص

 

جانے دے نعلینِ پا تک جانے دے

جانتے ہیں وہ مجھے دربانِ خاص !

 

اُن کا ہوں ، اُن کے درِ نسبت کا ہوں

خاص ہے مقصودؔ یہ عنوانِ خاص

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ