عدن بنا گیا مسجد کو اپنے سجدوں سے

عدن بنا گیا مسجد کو اپنے سجدوں سے

مکینِ خاص مدینے کی اک گلی والا

 

بڑے ادب سے اُس اُمّی لقب کے قدموں میں

قلم بھی رکھتا ہے قرطاس عاجزی والا

 

سخن تو حسبِ مراتب نہیں ظہیرؔ کے پاس

درودِ سادہ ہے لیکن یہ شاعری والا

 

الٰہیٰ جب بھی فرشتے پڑھیں صلوٰۃ و سلام

مرا سلام بھی پہنچے یہ بے بسی والا

 

بنا دے میرا ٹھکانا بھی اِس کی مٹی میں

نبی کے شہر میں آیا ہے بے گھری والا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حسرتِ دیدۂ نم، قلبِ تپاں سے آگے
ذی کرم ذی عطا آج کی رات ہے
چوم آئی ہے ثنا جُھوم کے بابِ توفیق
رسول پاک کے جتنے بھی ماہ پارے ہیں
جذبوں کی حرف گہ کو ذرا مُعتبر کریں
دل اماں پائے گا کیونکر باغِ جنت چھوڑ کر
وہ حسنِ مکمل، پیکرِ الفت، خلقِ مجسم کیا کہئے
نعت کے پھول جو ہونٹوں پہ سجا دیتے ہیں
بقدرِ فہم کرتے ہیں ثنا جتنی بھی ہو ہم سے
خدا کے فضل کے ہر دم حصار میں رہنا

اشتہارات