اردوئے معلیٰ

Search

 

عرب سے دور عجم کے کسی دیار میں ہوں

میں صبح وشام بلاوے کے انتظار میں ہوں

 

کرم ہے انکا کہ ہوں انکا امتی یارو

وگرنہ میں بھری محفل میں کس شمار میں ہوں

 

خدا کرے کہ گِروں جا کے انکی چوکھٹ پر

میں ایک اشک ہوں اور چشمِ اشکبار میں ہوں

 

خدا کرے کہ ہو پھر سے انکی دید نصیب

میں اک تمناہوں اور قلبِ بے قرار میں ہوں

 

جو طیبہ میں ہوں تو محسوس ہو رہا ہے مجھے

میں کوئی پھول ہوں اور دامنِ بہار میں ہوں

 

مہک رہی ہے مرے دل دماغ کی دنیا

تصوّرِ شہِ شاہانِ نامدار میں ہوں

 

نکل کے روح بدن کے قفس سے کب پہنچے

حضورِ شاہِ شہاں میں، اس انتظار میں ہوں

 

پہنچ ہی جاؤں گا اک روز کوئے طیبہ میں

میں مشتِ خاک ہوں اورحالتِ غبار میں ہوں

 

حضور! ہو مری بے اعتدالیوں سے گزر

سراپا دل ہوں، کہاں اپنے اختیار میں ہوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ