عرب کے روئے افق پہ چھٹکی جو صبحِ صادق کی روشنی تھی

عرب کے روئے افق پہ چھٹکی جو صبحِ صادق کی روشنی تھی

وہ وجہِ تخلیقِ کون و امکان کی ولادت کی سرخوشی تھی

 

خرامِ بادِ صبا میں اک منفرد تقدس رچا ہوا تھا

ربیعِ اول وہ پہلی پہلی بہار گویا کہ ان چُھئی تھی

 

جمیل شاخوں پہ سارے رنگوں کے تازہ غنچے چٹک رہے تھے

عجب سی سرشار یوں میں رقصاں گلاب و سوسن کی ہر کلی تھی

 

تمام پھولوں کی مہکی آغوش میں بسیرا تھا نکہتوں کا

ہر ایک پتّی گداز ہونٹوں سے بوئے تقدیس چومتی تھی

 

کیاریوں پر مہین پھولوں کے شامیانے تنے ہوئے تھے

مہک گلابوں کی پتیوں پر خوشی کے جھولے میں جھولتی تھی

 

ہر ایک طائر لہکتے پیڑوں کی ڈالیوں پر چہک رہا تھا

حسین بلبل درود کے گیت شاخِ گل کو سنا رہی تھی

 

کہیں پہ لالہ کا سرخ جوبن سرُورِ حسن و شباب میں تھا

کہیں گلِ یاسمیں کے عارض پہ بوند شبنم کی کھیلتی تھی

 

حسین بیلے کے پھول وقتِ سحر کی مستی میں جھومتے تھے

خوشی کنول اور نیلوفر کے گداز پہلو سے جھانکتی تھی

 

گلِ صباحت کی پتیوں پر صبا کی رنگینیاں فدا تھیں

گلِ سکینت کی شاخ دوشِ ہوا پہ مستی میں جھومتی تھی

 

چمن چمن نسترن کے رنگوں کی خوشنمائی کا تذکرہ تھا

مضافِ نرگس خزاں رتوں کی روانگی کی خوشی کھڑی تھی

 

چمیلیوں کی مہک سے صتھی چمن کا نقشہ تھا خلد جیسا

گلاب کے روئے خوشنما پر خمارِ سحری کی دل کشی تھی

 

گلِ اشرفی پٹونیا کو صبا کی باتیں سنا رہا تھا

گلِ بنفشہ سے بات گیندے کی خوب راز و نیاز کی تھی

 

بہار آج اک نئی طرح سے گلِ اناری کو چھو رہی تھی

سدا سہاگن گلِ بہاری میں آج انوکھی سی تازگی تھی

 

اندھیرے صحنِ چمن سے خود کو سمیٹنے میں لگے ہوئے تھے

سحر اجالوں کی بھیک دینے میانِ گلشن اتر رہی تھی

 

وہ آمنہ بی کے گھر میں مشک و عبیر و عنبر کا رتجگا تھا

عرب کے صحرا سے اٹھتی خوشبو جناں کے پھولوں کو بھا رہی تھی

 

جو صبحِ صادق پیام لائی تھی آمدِ سرورِ جہاں کا

وہ صبحِ صادق درِ محمد پہ دست بستہ کھڑی ہوئی تھی

 

یہی سحر ہے جو استعارہ ہے سرمدی رنگ و روشنی کا

یہی سحر ہے کہ جس نے آ کر بساطِ ظلمت لپیٹ دی تھی

 

وہ صبحِ صادق وہ پیر کا دن ربیعِ اول کی بارہویں کو

کریم رب نے عظیم نعمت زمین والوں کو سونپ دی تھی

 

جو آمنہ بی کی گود میں اپنی اولیں سانس لے رہے تھے

انہی کی سانسوں سے منسلک بزمِ کون و امکاں کی زندگی تھی

 

وہ رشکِ خورشید و ماہ و انجم جہانِ دنیا میں آ گئے ہیں

ظہور فرما ہوئے وہ جن کی دعا خلیلِ خدا نے کی تھی

 

وہ آ گئے ہیں کہ جن کی بابت مسیحِ مریم بتا گئے تھے

وہ جن کی خوش کن خبر صحائف میں اک تسلسل سے آ رہی تھی

 

مبارکیں جن کی آمنہ بی کو دی تھیں خوابوں میں بیبیوں نے

وہ جلوہ فرما ہوئے ہیں جن کے لئے یہ بزمِ جہاں سجی تھی

 

بڑے دنوں سے عرب کے لوگوں کو خشک سالی کا سامنا تھا

حضور آئے تو کشتِ ویران پھر ثمر بار ہو گئی تھی

 

تبھی تو لات و منات کے بت بھی اپنے ہی منہ کے بل گرے تھے

قدیم آتش کدے کی آتش بوقتِ میلاد ہی بجھی تھی

 

حضور آئے وہ نور پھیلا کہ شام کے بام و در بھی چمکے

فلک سے ضوبار کہکشاں آ کے صحنِ سرکار پر جھکی تھی

 

وہ آئے مختوں بہ حالِ سجدہ بریدہ ناف و بدن مطہر

جہان سارا ہوا منور فضا میں خوشبو کی سروری تھی

 

شفیق دادا وہ عبدِ مطلب حرم کے اندر طواف میں تھے

وہ دوڑے آئے خوشی خوشی میں اٹھا کے چوما دعا بھی دی تھی

 

برائے دیدِ نبیٔ آخر فلک سے قدسی اتر رہے تھے

فضا میں تھا اک عجب تقدس مہک ہواؤں میں خلد کی تھی

 

خبر خوشی کی یہ ثوبیہ نے سنائی جا کر ابو لہب کو

کیا جو آزاد ثوبیہ کو رعایت اس کے عوض ملی تھی

 

انہی کے صدقے قحط اٹھا کر بڑی فراوانیاں عطا کیں

تمام ماؤں کی گود رب نے نرینہ اولاد سے بھری تھی

 

وہ آئے جبریل جھنڈے لے کر سجائے مشرق سجائے مغرب

وہ بیتِ معمور پر بھی جھنڈا لگا تھا رونق تھی روشنی تھی

 

کہیں تھا خوشبو کا رقص جاری کہیں ستارے جھکے ہوئے تھے

زمین پر تھا خوشی کا موسم فلک کی رونق بھی دیدنی تھی

 

نجومِ تاباں مہِ منور طلوعِ خورشید صبحِ روشن

نظر ہر اک استعارۂ نور کی قرینِ حرم لگی تھی

 

زمین خوش تھی زمان خوش تھےمقیمِ کون و مکان خوش تھے

خوشی تھی رقصاں چہار جانب بڑی مسرت کی وہ گھڑی تھی

 

ظہورِ شاہِ عرب کے صدقے ہوا میں عطرِ ارم بسا تھا

عبیر و مشکِ ختن کی خوشبو خوشی کے ماحول میں رچی تھی

 

جو دیکھتا تھا وہ حسنِ کامل کا دل سے شیدائی ہو رہا تھا

نفیس بینی گلاب عارض حسین صورت بہت بھلی تھی

 

منیر آنکھیں اور ان میں مازاغ کے حسین و جمیل ڈورے

کشادہ ماتھے پہ ماہ و خورشید کے مقدر کی روشنی تھی

 

وہ پتلے پتلے حسین لب تھے گلِ تقدس کی پتیوں سے

وہ دانت کیا تھے، نفیس و نایاب موتیوں کی حسیں لڑی تھی

 

ہتھیلیوں کے گداز پر بھی حریر و اطلس فریفتہ تھے

کلائیوں کی نظر اتارے یہ شاخِ طوبیٰ کی نوکری تھی

 

دراز پلکوں کی ٹھنڈی چھاؤں میں غمگساری کا مستقر تھا

ہلالِ ابرو کے بانکپن میں نوید عیدِ سعید کی تھی

 

گدازِ کمخواب چشمِ حیرت سے ان کے تلووں کو دیکھتا تھا

نظر سنیل و حریر و دیبا کی ان کے قدموں کو چومتی تھی

 

سراپا حسن و جمال ایسا مثال جس کی نہ تھی نہ ہوگی

حسین رنگت تھی اتنی اجلی کہ روشنی بھیک مانگتی تھی

 

عرب ظہورِ نبی سے پہلے جہالتوں کے حصار میں تھا

حصولِ علم و ادب کی ترغیب شاہِ کونین سے ملی تھی

 

ورود بے رنگ موسموں کا عرب کے صحرا کا تھا مقدر

حجاز تھا رونقوں سے خالی حرم میں بھی کب یہ دل کشی تھی

 

جہالتوں کے گڑھوں میں ماں باپ زندہ درگور کر رہے تھے

نہ بیٹیوں کا یہ مرتبہ تھا نہ بیٹیوں کی یہ زندگی تھی

 

نہ شعر کو تھا شعورِ مدحت نہ اس ہنر کی تھی قدر و قیمت

نہ شعر میں لطف نعت کا تھا نہ قابلِ رشک شاعری تھی

 

شرف ہے ذکرِ جمالِ سرور سو فضلِ ربی سے کر رہا ہوں

کرم ہے خلاقِ دو جہاں کا اسی سے یہ نوکری ملی تھی

 

جہاں جہاں پر گمان نقشِ نعالِ سرکار کا ہوا تھا

وہیں پہ قبلہ تھا قلب و جاں کا وہیں پہ میری جبیں جھکی تھی

 

طفیلِ ممدوح، یا الٰہی معاف کر دے مری خطائیں

وہ جس کے صدقے میں تونے آدم کی عاجزی بھی قبول کی تھی

 

ہمارے ماں باپ اور بچوں کو ان کے در کے گدائی میں رکھ

کہ جن کے بندہ نواز ہاتھوں میں تونے تقسیمِ رزق دی تھی

 

کرم ہے، اشفاقِ بے ہنر کا قلم درِ نعت پر جھکا ہے

یہی وہ اعزاز تھا جو نوکِ قلم ہمیشہ سے مانگتی تھی

 

قصیدۂ میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ