اردوئے معلیٰ

عرش ہمدوش حرف آرائی

فرشِ مدحِ رسول پر آئی

 

وہ زمیں بے نمو رہے کیسے

جو ترے نقشِ پا نے مہکائی

 

اب سبک بار ہے بہ عز و شرَف

زیست تھی زیر بارِ رسوائی

 

منبعِ علم و چشمۂ حکمت

آپ نے جو بھی بات فرمائی

 

مانگنے کی نہیں ہوئی حاجت

اُن کی بخشش ہے بے طلَب پائی

 

اِک ترے در کے ہو رہے آخر

وہ جو تھے مُتہم بہ ہرجائی

 

سب تمناؤں کا ہے تُو محور

سب دلوں پر ہے تیری دارائی

 

تیری صورت ہے نازشِ خلقت

تیری سیرت ہے رشکِ زیبائی

 

نعت اُن کو قبول ہو تو ہے نعت

ورنہ اِک سعئ خامہ فرسائی

 

لب بصد ضبط عرض دارِ ثنا

دل بصد طَور ہے تمنائی

 

اِک تسلسل سے ہے مدینے رواں

میری مقصودؔ شوق پیمائی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات