اردوئے معلیٰ

عرضی

نہیں پڑتے حسابِ بیش و کم میں

ہم اہلِ عشق ہیں اہلِ قناعت

 

بہت چھوٹی سی اپنی آرزو ہے

بہت ہی مختصر ہے اپنی چاہت

 

ترے اِکرام کا ایک آدھ لمحہ

ترے اِقرار کی ایک آدھ ساعت

 

کبھی دیدار کے دو چار سِکّے

کبھی خیرات میں تھوڑی محبت

 

سحر کے وقت انعامِ تبسم

تو شب کو بوسۂ لب کی اجازت

 

ہمیں لالچ نہ پہلے تھا نہ اب ہے

مگر تُجھ سے فقط اتنی طلب ہے

 

خدارا سُوئے مُشتاقاں نگاہے "​

"​پیا پَے گر نہ با شُد ، گاہے گاہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ