عزتِ سادات

ہمارے گھر میں جانور پالنے کا بالکل رواج نہیں تھا ـ بس یہ تھا کہ بڑی اماں جب تک حیات رہیں بچوں کو انڈے کھلانے کے لئے مرغیاں پالتی تھیں مگر یہ بھی ہماری سالم یادداشتوں سے پہلے کی بات ہے البتہ بڑے ہونے پر پرانی تصویروں کے البم میں ہم نے ان مرغیوں کا تین منزلہ دڑبہ کسی بہن بھائی کی تصویر کے پیچھے ضرور ملاحظہ کیا تھا لیکن شعور کے کسی خانے میں ان مرغیوں کی یادتازہ نہ ہوئی ـ
 
یہ تب کی بات ہے جب منجھلے بھائی کو گاؤں میں گھر کی دیکھ بھال کے لئے اکیلا چھوڑ کر اماں ابا شہر چلے آئے تھے۔ ابا کو دھڑکا تھا کہ گاؤں میں جب برفباری ہوگی اور منجھلے کو پہاڑ پہ واقع جنگل سے لکڑیاں لانی ہوں گی تو اکیلے سفر مشکل ہو جائےگا خدا ناخواستہ اگر کہیں برف میں پھنس گیا تو گاؤں میں اطلاع کون دے گا ـ پہاڑی گاؤوں کے یہ وہ مسائل ہیں جنہیں مقامی لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ان ہی خدشات کے پیش نظر منجھلے بھائی کے لیے کتا رکھنے کی صلاح دی گئی ـ
 
ہم ہمیشہ سے دنیا میں فقط انسان نامی حیوان کے قائل ہیں اور باقی تمام حیوانات سے شدید الرجک رہے ہیں ۔ اس پالتو کتے کو گھر لانے پر ہم ضرور اعتراض کرتے لیکن یہ اس گھر سے جہاں ہم رہائش پذیر تھے کوئی ایک سو نوے کلو میٹر کی دوری پہ لا کر بسایا گیا ـ جب یہ کتا ہمیں نہ دکھائی دیتا نہ سنائی دیتا تو ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا تھا ـ
 
منجھلے کی خیر خیریت دریافت کرنے کی غرض سے فون ملایا تو اطلاع ملی کہ پالتو کتے کا نام ۔۔ کے ٹو ۔۔۔ رکھ دیا گیا ہے ـ ہم تو سمجھے کہ نام رکھنے کی رسم بھی بخیر و عافیت پوری ہوئی لیکن سلام ہو ابا جی کی عظمت کو اور انھیں قوم پرستی کے نام پہ دق کرنے والوں کو کہ انہوں نے اس ۔۔ کے ٹو ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ خان ۔۔۔ کا اضافہ کردیا ۔۔ یعنی اب کتے کا نام کےٹو سے کےٹوخان ہوگیا ۔ اس لاحقہ پر گاؤں میں متعدد اعتراضات اٹھائے گئے ـ کئی لوگ اسے اپنی تذلیل سمجھے اور بعض تو غصے میں آکر ابا جی کا سوشل بائیکاٹ کر بیٹھے ـ کہ آخر کو لفظ ” خان ” عزت اور مرتبے کی علامت سمجھا جاتا اور کہاں یہ ظلم کہ کتا ہی خان کہلایا جانے لگے ؛
 
چونکہ یہ نام ایک پکے پٹھان نے رکھا تھا لہذا نام بدلنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا ۔ اس ضمن میں ابا جی بیان فرماتے تھے کہ اگر پختون قوم خود کو اعلیٰ خیال کرتی ہے تو ۔۔ کےٹوخان ۔۔ بھی پختونوں کا ہی ہے لہذا اسکی عزت بھی سب پہ فرض ہے۔
بات اگر یہیں تک رہتی تو ہمیں گوارا تھی لیکن شومئی قسمت ہمارے لاڈلے بھتیجے کو مرغا رکھنے کا شوق لاحق ہوا اور بھائی صاحب بیٹے کی فرمائش پہ مرغا اور مرغی دونوں لے آئے ـ
 
یہ بھی اللہ کا کرم تھا کہ بھائی ہم سے الگ رہتے ہیں وگرنہ پالتو جانور رکھنے کی اس رسمِ بد کے خلاف ہمیں سراپا احتجاج ہونے سے بھلا کون روک سکتا تھا ـ مرغا مرغی گھر آگئے اور سکون سے رہنے لگے۔ مرغا مرغی سیڑھیوں کے نیچے بنے دڑبے میں زندگی یوں ہی تمام کر دیتے لیکن کیا کیجیے کہ ابا جی کی نظر کرم ان پر پڑ گئی۔ لاڈلے پوتے نے دادا کو خوشی خوشی مرغے مرغی کا تعارف کرایا۔
سوال ہوا مرغے کا نام کیا ہے۔ اس سوال پر بھابھی صاحبہ ہڑبڑا گئیں ـ کیونکہ اس گھر میں نام رکھنے کی رسم ہندوؤں کی سوئمبر سے زیادہ مشکل ہے ـ
دس میں سے کل نو بہن بھائیوں کے نام ابا حضور نے خود رکھے البتہ دسویں بچے کی دفعہ ہم نے علم بغاوت بلند کردیا ـ نام رکھنے کا اختیار ابا حضور سے کوئی چھین تو نہیں سکتا تھا ۔ لیکن اس آخری معرکتہ الآراء جنگ جس میں ہم نے ببانگ دہل دھمکیاں دیں کہ اگر اس چھوٹی لڑکی کا نام رکھنے کا اختیار ہمیں نہ دیا گیا تو ہم اسکا جینا محال کر دیں گے اسکے دودھ کا فیڈرپھینک دیں گے اسکے گرم کپڑے پڑوسیوں کو دے دیں گےـ۔
چونکہ گھر بھر میں ہم ابا کے لاڈلے تھے اس لیے ہماری دھمکیوں کی لاج رکھ لی گئی اور اس دن سے خاندان بھر کے بچوں کے نام رکھنے کا اختیار ہمیں مل گیا ۔ لیکن آج گھر کی تاریخ میں پہلی بار ایک مرغے کے نام کا مسئلہ اٹھایا جا رہا تھا ـ
لیکن ابا کو برسوں پرانی بات آج بھی یاد تھی ـ
جانے ان بزرگوں کے کمزورحافظے ایسے وقت میں تیز کیسے ہو جاتے ہیں ـ
جی مرغے کو نام عنایت کیجیے ـ
دیکھیے ابا نام تو ہم عنایت کر دیں گے لیکن یہ نام کے آخر میں جو خان والامذاق آپ نے شروع کر رکھا ہے ہم یہاں آپکے حکم کی تعمیل نہیں کرپائیں گے ـ
بھلے سے ابا اہل خاندان کو دق کرنے کے لیے ” خان ” کی شان کے خلاف ہوں ہم اس معاملے میں ابا کے ہم خیال ہر گز نہیں ہو سکتے تھے ـ
بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ کتے اور مرغے ہی خان کہلائے جانے لگیں ـ
ابا متبسم ہوئے فرمانے لگے اگر بات فقط خان تک رہتی تو ہمیں یقین تھا آپکو چنداں پرواہ نہ ہوتی لیکن اس مرغے کے بعد مرغی کا نام ہم خانم سےسے ضرور رکھتے ـ اعتراض آپکو خان پہ نہیں خانم پہ ہوگا ـ آخر آپ بھی تو اعلیٰ خاندان کہلائے جانے کی عادت بد میں مبتلا ہیں ـ
صاحبو! اتنا اعتراض تو ہمارا بنتا ہی ہے آپکا کیا خیال ہے؟ ؟
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
پیاری اماں کے لیے خط (۱)
 کہانی بحرین کی
جب ہم ملے
بیٹی کے نام خط ( ۳ )
منٹو اور اکیسویں صدی کا افسانہ نگار
عدم توازن
خط بنام سہیلی
عمر یونہی تمام ہوتی ہے
کردار