عزت و عظمتِ شاعری نعت ہے

عزت و عظمتِ شاعری نعت ہے

حرف اور صوت کی زندگی نعت ہے

 

ہے وہ ناعت جو خوش ہے ولادت کی شب

آمدِ مصطفیٰ کی خوشی نعت ہے

 

حرفِ مدحت مرے مثلِ زرناب ہیں

گویا میرے لئے سروری نعت ہے

 

ہو عطا نعت یہ بھی کرم ہے مگر

خواہشِ نعت بھی واقعی نعت ہے

 

دل کی بے چینیاں منہ چھپا لیتی ہیں

جب مرے کان میں گونجتی نعت ہے

 

خوف بالکل نہیں حشر کی دھوپ کا

سائباں بن کے سر پر تنی نعت ہے

 

کچھ بھی اشفاق اب سوجھتا ہی نہیں

فہم و ادراک میں یوں بسی نعت ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہوگا
کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
کلامِ احمدِ مرسل سمندر ہے لطافت کا
اے خدا شكر كہ اُن پر ہوئیں قرباں آنكھیں
ہستی پر میری مولا آقا کا رنگ چڑھا دے
روحِ دیں ہے عید میلادُالنبی
شب غم میں سحر بیدار کر دیں
شفیع الوریٰ() کو درودوں کا عطیہ​
مہکی ہے فضا گیسوئے محبوب عرب سے
ہیں سرپہ مرے احمد مشکل کشا کے ہاتھ

اشتہارات