اردوئے معلیٰ

عزمِ سفر

نقد جاں لے کے چلو دیدۂ تر لے کے چلو

گھر سے نکلو تو یہی رختِ سفر لے کے چلو

 

سامنے سرورِ کونین کا دروازہ ہے

کوئی تو بات بہ عنوانِ دگر لے کے چلو

 

نعت گوئی کی تمنا ہے تو اس کوچہ میں

رومیؔ و جامیؔ و قدسیؔ کا اثر لے کے چلو

 

حُسن کہتا ہے وہ رسمِ ادب مانع ہے

شوق کہتا ہے عقیدت کے ثمر لے کے چلو

 

دن نکل آئے گا دامانِ مہ و انجم سے

رات کٹ جائے گی فرمانِ سحر لے کے چلو

 

منزلِ دوست تمہیں عز و شرف بخشے گی

دامنوں میں دُرِ مقصودِ سفر لے کے چلو

 

ہم نوائی کو ملائک کے جنود آئیں گے

پیشوائی کے لیے شمس و قمر لے کے چلو

 

شورشؔ اُس رحمتِ کونین کے دروازے پر

آ ہی پہنچے ہو تو بخشش کی خبر لے کے چلو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ