اردوئے معلیٰ

Search

عزم حسین! سرِ حق ایثار اولیاء

یہ کار انبیاء ہے کہ شہکارِ اولیاء

 

سلطانِ کربلا کی حضوری میں رات دن

آراستہ ہی رہتا ہے دربارِ اولیاء

 

ایک ایک سانس کیوں نہ کرامت بدوش ہو

روحِ ّحسینیت ہے طرفدارِ اولیاء

 

بے دام بکنے کے لیے بے چین ہر کوئی

واللہ کربلا ہے کہ بازارِ اولیاء

 

آلِ نبی کی ُطرفہ بہاریں نہ پوچھئے

ہر خار نینوا میں ہے گلزارِ اولیاء

 

الفاظ کیا ہوں اکبر و عباس کے لیے

اس گھر کا شیرخوار ہے شہکارِ اولیاء

 

اشعار میں مٹھاس نہ کیسے ہو اے صبیحؔ

روزِ ازل سے ہوں میں نمک خوارِ اولیاء

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ