عزم لازم ہے نئے عہدِ وفا سے پہلے

عزم لازم ہے نئے عہدِ وفا سے پہلے

اُسوۂ پاک میں ڈھل جاؤں فنا سے پہلے

 

رنگ اپناؤں محمد ﷺ کی غلامی کے سبھی

رب کی حاصل ہو رِضا مجھ کو قضا سے پہلے

 

میں نے سمجھا ہے کہ ہے کیا یہ جہاد اور قتال

دعوتِ دین ضروری ہے وَغا سے پہلے

 

دین، لفظوں سے عمل تک جو نہ ہو نور فشاں

پھر تو وہ موت ہے انساں کی، فنا سے پہلے

 

نہ تو دنیا تھی نہ تھا دیں ہی میسر ہم کو

بالیقیں سرورِ عالم ﷺ کی عطا سے پہلے

 

کاش میں خود درِ سرکار ﷺ پہ حاضر ہو جاؤں

نالۂ شوق سے معمور، صبا سے پہلے

 

اتباعِ نبویؐ میرے عمل سے جھلکے

ان کے دربار میں اظہارِ وفا سے پہلے

 

کاش احساسِ ندامت کی بھی بارش برسے

مدحتِ شاہ ﷺ میں لفظوں کی گھٹا سے پہلے

 

نعت سچائی کی ضامن ہو بہرطور عزیزؔ

قلب میں داخلۂ شوقِ جزا سے پہلے

 

مصرع طرح: کچھ نہ تھا پاس مرے ان کی عطا سے پہلے (ریاض سہروردی)
ہفتہ: ۸؍ذیقعدہ۱۴۳۷ھ …مطابق:۱۳؍اگست۲۰۱۶ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حسنِ بے مثل کا اِک نقشِ اُتم ہیں، واللہ
مَیں کم طلب ہوں پہ شانِ عطا تو کم نہیں ہے
شہرِ امکان میں وہ ساعتِ حیرت آئے
صبیح آپ ، صباحت کی آبرُو بھی آپ
سکوں پہ واجب رہے وہ دل میں خرد پہ لازم رہے وہ حاضر
قطرۂ ناچیز میں وہ بحرِ نا پیدا کنار
شوقِ ثنائے خواجہ ہے کم مائیگی کے ساتھ
طبیعت فطرتاََ پائی سخن کے واسطے موزوں
ہے یہ میدانِ ثنا گر نہ پڑے منہ کے بل
کیفِ یادِ حبیب زیادہ ہے