اردوئے معلیٰ

عزم لازم ہے نئے عہدِ وفا سے پہلے

اُسوۂ پاک میں ڈھل جاؤں فنا سے پہلے

 

رنگ اپناؤں محمد کی غلامی کے سبھی

رب کی حاصل ہو رِضا مجھ کو قضا سے پہلے

 

میں نے سمجھا ہے کہ ہے کیا یہ جہاد اور قتال

دعوتِ دین ضروری ہے وَغا سے پہلے

 

دین، لفظوں سے عمل تک جو نہ ہو نور فشاں

پھر تو وہ موت ہے انساں کی، فنا سے پہلے

 

نہ تو دنیا تھی نہ تھا دیں ہی میسر ہم کو

بالیقیں سرورِ عالم کی عطا سے پہلے

 

کاش میں خود درِ سرکار پہ حاضر ہو جاؤں

نالۂ شوق سے معمور، صبا سے پہلے

 

اتباعِ نبوی میرے عمل سے جھلکے

ان کے دربار میں اظہارِ وفا سے پہلے

 

کاش احساسِ ندامت کی بھی بارش برسے

مدحتِ شاہ میں لفظوں کی گھٹا سے پہلے

 

نعت سچائی کی ضامن ہو بہرطور عزیزؔ

قلب میں داخلۂ شوقِ جزا سے پہلے

 

مصرع طرح: کچھ نہ تھا پاس مرے ان کی عطا سے پہلے (ریاض سہروردی)
ہفتہ: ۸؍ذیقعدہ۱۴۳۷ھ …مطابق:۱۳؍اگست۲۰۱۶ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات