اردوئے معلیٰ

عشقِ سرکار میں جو دل بھی تڑپتا ہو گا

عشقِ سرکار میں جو دل بھی تڑپتا ہو گا

اپنا ایمان ہے تا حشر مہکتا ہو گا

 

میرے سرکار کے چہرے کی ضیا ہے اتنی

شمس بھی دیکھ کے آنکھوں کو جھپکتا ہوگا

 

جس پہ چل کر میرے سرکار مدینے پہنچے

کتنا خوش بخت مدینے کا وہ رستہ ہوگا

 

کیا جلائے گی بھلا نارِ جہنم اس کو

جو محبت میرے سرکار سے رکھتا ہوگا

 

زندگی بھر نہ کسی اور سے مانگے گا کبھی

میرے سرکار کے ٹکڑوں پہ جو پلتا ہو گا

 

نامِ احمد کا وظیفہ جو ہو لَب پر آصف

دیکھنا پھر یہ مقدر بھی چمکتا ہوگا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ