اردوئے معلیٰ

عشق پھر سے مجھے نیا کر دے

ہر بھرے زخم کو ہرا کر دے

 

آسرا چھین لے مسیحا کا

مجھے مرہم سے ماورا کر دے

 

زہر بننے لگا ہے سناٹا

شور مجھ میں کوئی بپا کر دے

 

میں اک آشوبِ اعتبار میں ہوں

اپنی آنکھیں مجھے عطا کر دے

 

ترے رستے میں ہم سفر کیسا

مجھے سائے سے بھی جدا کر دے

 

میں مکمل بھی ہو ہی جاؤں گا

تو کسی روز ابتدا کر دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات