اردوئے معلیٰ

Search

عشق پھر سے مجھے نیا کر دے

ہر بھرے زخم کو ہرا کر دے

 

آسرا چھین لے مسیحا کا

مجھے مرہم سے ماورا کر دے

 

زہر بننے لگا ہے سناٹا

شور مجھ میں کوئی بپا کر دے

 

میں اک آشوبِ اعتبار میں ہوں

اپنی آنکھیں مجھے عطا کر دے

 

ترے رستے میں ہم سفر کیسا

مجھے سائے سے بھی جدا کر دے

 

میں مکمل بھی ہو ہی جاؤں گا

تو کسی روز ابتدا کر دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ