اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

عشق پھر سے مجھے نیا کر دے

عشق پھر سے مجھے نیا کر دے

ہر بھرے زخم کو ہرا کر دے

 

آسرا چھین لے مسیحا کا

مجھے مرہم سے ماورا کر دے

 

زہر بننے لگا ہے سناٹا

شور مجھ میں کوئی بپا کر دے

 

میں اک آشوبِ اعتبار میں ہوں

اپنی آنکھیں مجھے عطا کر دے

 

ترے رستے میں ہم سفر کیسا

مجھے سائے سے بھی جدا کر دے

 

میں مکمل بھی ہو ہی جاؤں گا

تو کسی روز ابتدا کر دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین
جھجھکتے رھنا نہیں ھے ادا محبت کی
مری دیوانگی خود ساختہ نئیں
مَنّت مانی جائے؟ یا کہ دم کروایا جا سکتا ہے؟
پایا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
وصال رُت بھی اگر آئے ، کم نہیں ہوتے
نہ پُھول کی نہ کسی نافۂ غزال کی ہے
بات کب رہ گئی مرے بس تک
صداء کوئی نہیں اب کے ، فقط دہلیز پر سر ہے
جو جا چکا وہ گیت ، وہی سُر تھا ، ساز تھا