عشق کے سارے شجر سید کونین کے نام

عشق کے سارے شجر سید کونین کے نام

ابر پاروں کے سفر سید کونین کے نام

 

کام ان کا ہے بنا دینا انہیں تاج محل

دل کے بوسیدہ کھنڈر سید کونین کے نام

 

جان تو پہلے ہی منسوب ہے ان سے میری

ذرہ ذرہ مرا گھر سید کونین کے نام

 

کسی بنجر پہ جو لکھ دیں تو بنے رشک جناں

ایسا رکھتے ہیں اثر سید کونین کے نام

 

ہیں یہی میرا اثاثہ یہی دولت میری

بیش قیمت ہیں گہر سید کونین کے نام

 

خر دماغوں کی تو میں بات نہیں کرتا مگر

جس قدر خم ہیں وہ سر سید کونین کے نام

 

محفل شمس فلک روشن و تاباں ان سے

مشعل بزم قمر سید کونین کے نام

 

تیری معراج ہے یہ تجھ کو پتہ ہے کہ نہیں

چوم لے میری نظر سید کونین کے نام

 

طاقت کفر کے تھرانے لگے پاؤں اُدھر

لب پہ آئیں جو اِدھر سید کونین کے نام

 

نکہت گل میں ڈبو باد صبا نوک قلم

لکھ سر بام سحر سید کونین کے نام

 

میرا ایمان ہے انجم ؔکہ بنیں کام مرے

لب پہ آجائیں اگر سید کونین کے نام

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا، ثنا نبیؐ کی جو لکھے کامل
شعرِ عقیدتِ نبی خوب عطا ہوا مجھے
آمنہ بی کا پسر، راج کنور، لختِ جگر
میں نے اشعار کہنے کی مانگی دعا
ہر طرف تیرگی تھی نہ تھی روشنی
بے چین دل نے جس گھڑی مانگا خدا سے عشق
مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
مدحِ رسولؐ میں جو ہر گل پرو دیا ہے
آ وڑیا ترے شہر مدینے اک غمگین سوالی ھُو
وہی بندہ خدا کی خُلد کا حقدار ہوتا ہے

اشتہارات