عشق ہی جب کہ عناں گیر نہیں تیرے لیئے

عشق ہی جب کہ عناں گیر نہیں تیرے لیئے

جا مری جان میں زنجیر نہیں تیرے لیئے

 

تو اگر عہدِ محبت کو فراموش کرے

میں بھی ناقابلِ تسخیر نہیں تیرے لیئے

 

ائے کہ تو، راہِ محبت میں جسے موت آئی

اب کسی خواب کی تعبیر نہیں تیرے لیئے

 

وقت تیرا تو بہت دیر ہوئی بیت چکا

کوئی عجلت کوئی تاخیر نہیں تیرے لیئے

 

تو خداوندِ سخن تھا کبھی لیکن اب کے

تیرے اشعار کی تحریر نہیں تیرے لیئے

 

زہر جب کام دکھانے پہ اتر آیا ہے

ظرفِ تریاق میں تاثیر نہیں تیرے لیئے

 

تو فقط راندہِ درگاہِ محبت ٹھہرا

اب کوئی پیار کی جاگیر نہیں تیرے لیئے

 

یہ کسی اور کا منظر ہے جو تمثیل ہوا

پردہِ ابر پہ تصویر نہیں تیرے لیئے

 

بے حسی سانس لیے جاتی ہے ورنہ ناصر

زندگی باعثِ توقیر نہیں تیرے لیئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

منزل کو جانتا تھا، اشارہ شناس تھا
کبریا شخص کبھی وقت کے قانون کو دیکھ
حبس جاں رونے سے کچھ اور گراں ہوتا ہے
شاد و آباد رہو، وقت سدا خوش رکھے
وہ جو اک شخص مجھے طعنہء جاں دیتا ہے
اِس کی بنیاد میں پتھر ہے پرانے گھر کا
بے دری گھر مرا ، میں کہ فرضی مکیں فرض کر لی گئی
لوگوں نے ایک واقعہ گھر گھر بنا دیا
اگر محبت سے دل کا دامن نہیں بھرے گا
ترکِ تعلقات کا وعدہ نہ کر سکیں