عصرِ حاضر ، مری توہین تو مت کر پھر بھی

عصرِ حاضر ، مری توہین تو مت کر پھر بھی

میں کسی عہدِ گزشتہ کا خداوند سہی

 

حسن دیکھے تو سہی زخم کے رِستے گوشے

عشق خاموش سہی، ظرف کا پابند سہی

 

سوچ لے پھر کہ میں اک بار ہی مر پاؤں گا

کھیل دلچسپ سہی میں بھی رضامند سہی

 

بیڑیاں ہیں تو چلو شوق کو پازیب ملی

رہ گیا طوق تو وحشت کو گلو بند سہی

 

میرے خآکے کی طرف دیکھ دھنک کے مالک

بے تحاشہ نہ سہی رنگ چلو چند سہی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مُجھے اک رس بھری کا دھیان تھا، ھے اور رھے گا
پہنچ سے دُور ، چمکتا سراب ، یعنی تُو
میں عِشق زار میں اِس دِل سمیت مارا گیا
گناہ کیا ہے؟ حرام کیا ہے؟ حلال کیا ہے؟ سوال یہ ہے
مسلسل ذہن میں ہوئی غارت گری کیا ہے
کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی
وہ رات میاں رات تھی ایسی کہ نہ پوچھو
کرتا ہے جنوں شام و سحر ورق سیاہ بھی
پا ہی گئی ہے خاک ٹھکانہ ، خاکِ ازل کی پرتوں میں
اک حدِ اعتدال پہ لرزاں ہے دیر سے