عقل تحیر میں ہے، گم ہیں ہوش و خرد محبوبِ احد

عقل تحیر میں ہے، گم ہیں ہوش و خرد محبوبِ احد

جانتا ہوں میں پیشِ مدینہ اپنی حد، محبوبِ احد

 

کہتے نہیں کچھ آپ خدا کی مرضی اگر نہ شامل ہو

اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی اس کی سند محبوبِ احد

 

آپ ہیں نورِ ذاتِ الٰہی مالکِ کُل ، مختار بھی ہیں

اس میں نہیں ابہام نہ کوئی رد و کد ،محبوبِ احد

 

چاند، ستارے، سورج اس کے تابع ہیں تو روشن ہیں

گنبدِ خضرٰی سے ہی انہیں جاری ہے رسد محبوبِ احد

 

اس فانی دنیا میں بھی، پھر قبر میں بھی محشر میں بھی

ہر مشکل میں مانگتا ہوں تجھ سے ہی مدد محبوبِ احد

 

چومتے ہیں دو بار مرے لب نامِ محمد لیتا ہوں

جھومتا ہوں جب آتا ہے اک میم پہ شد محبوبِ احد

 

ظاہر میں ہے ایک چٹائی اور ترا سادہ کھانا

اصل میں عرشِ اعظم ہے تیری مسند محبوبِ احد

 

روزِ جزا سب ساتھ پڑھیں گے صَلِّ علٰی بس صَلِّ علٰی

آپ کی جب ہونے والی ہو گی آمد محبوبِ احد

 

تشنہ نگاہی کو بردوں کی کافی و وافی ہے شاہا

آپ کا طیبہ آپ کا وہ نوری گنبد محبوبِ احد

 

آپ کی نعت کے صدقے اور مدحت کی برکت سے آقا

بڑھتا ہے مجھ ایسے نکمّے کا بھی قد محبوبِ احد

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ