اردوئے معلیٰ

عقل تو خوش ہے مری تردید پر

دل کھڑا ہے پر رہِ توحید پر

 

بات نے آخر پہنچنا ہے وہیں

ہنس رہا ہوں میں تری تمہید پر

 

سارے بچوں میں مرا بچپن ہی ہے

جھنجلاتے ہیں مری تاکید پر

 

سامنا اس سے ہوا ہے آج پھر

جی اٹھا ہوں درد کی تجدید پر

 

جائیے تو اب کدھر کو جائیے

بیٹھیے تو کس درِ امید پر

 

جھلملاتے ہیں کئی یادوں کے دیپ

اک چراغاں ہے مزارِ دید پر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات