اردوئے معلیٰ

عقل کیا منصبِ سرکار کی تحقیق کرے؟

جبکہ ایماں سے جدائی، اُسے زندیق کرے

 

شہرِ طیبہ کا ہوں باشندہ، یہ دل کہتا ہے

کاش تقدیر بھی اس خواب کی تصدیق کرے!

 

میرے ہر شعر میں ہو مدحِ رسولِ اکرم

ہر عمل میرا، مری بات کی توثیق کرے!

 

فاصلے سارے عجم اور عرب کے مٹ جائیں

اس قدر روح کو رَبّ مائلِ تشویق کرے!

 

شوقِ اظہار جسے حرف کی دنیا میں ملے

عشقِ سرکار ، اسے صاحبِ تدقیق کرے!

 

جسم بھی روح کے ہمراہ مدینے میں رہے

کوئی لمحہ تو مری فکر کی تطبیق کرے!

 

بال و پر بھی ہوں اشارے بھی حضوری کے ملیں

کیسے ممکن ہے سفر میں کوئی تعویق کرے؟

 

روح ہوتی ہی رہے روضۂ اطہر پہ نثار!

عشقِ سرکار عطا شہپرِ توفیق کرے!

 

کاش ہر عہد کے بت توڑ کے آگے بڑھ جائے

ایسے انداز سے ملت، کبھی تعمیق۲ کرے!

 

خود وہ مٹ جائے جو ملت کو مٹانا چاہے

نسل، رنگ اور زبانوں کی جو تفریق کرے!

 

اب تو ہر فرد کو میدانِ عمل میں لے جائے

تیز آندھی کبھی اس قوم کی تصفیق۳ کرے!

 

شاید اس قوم کو اصحابؓ کا جذبہ ہو نصیب

مادرِ صدق و یقیں اس کی جو تفویق۴ کرے!

 

کاش ہر شخص کا عقبیٰ سے ہو رشتہ محکم

اپنے ہر فعل سے دنیا کی وہ تطلیق۵ کرے!

 

میری ملت کے ہر عالِم کو مرا رَبِّ جلیل

کر کے بینائی عطا مائلِ تدنیق۶ کرے!

 

کاش قرآن کے الفاظ کے تعویذ عزیزؔ

حرمِ دل میں بھی ملت کبھی تعلیق۷ کرے

 

۱۔ دیر، تاخیر ۲۔ غور و خوض ۳۔ ہوا کا درختوں کو ہلانا۔میں نے جھنجھوڑنے

کے معنیٰ میں استعمال کیا ہے۴۔ بچے کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد دودھ پلانا۔

۵۔ طلاق دینا ۶۔ نظر جما کر دیکھنے کا عمل۔ ۷۔ لٹکانا

منگل : ۱۰؍ ذی الحج ۱۴۲۹ھ… ۹ ؍ دسمبر ۲۰۰۸ء منگل بدھ کی درمیانی شب۔ بھارہ کہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات