اردوئے معلیٰ

عمر بس اعداد کی گنتی سے بڑھ کر کچھ نہیں

زندگی ، کارِ عبث، جس کی نہایت موت ہے

 

لوٹ کر جانے کا کس کمبخت کو اب حوصلہ

راہ سے بھٹکے ہوؤں کو اب ہدایت موت ہے

 

یہ بکھیڑا ، جو بنامِ زندگی پالا گیا

اس مشقت کی غرض کہیے کہ غایت موت ہے

 

وہ جو اپنی ذات کے زندان میں بے چین ہیں

ان اسیروں کی سزاؤں میں رعایت موت ہے

 

تو بھلا کیا زندگی بخشے گا اہلِ عشق کو

اس قبیلے کی درخشندہ روایت موت ہے

 

زندگی کے خواب تو تعبیر سے عاری رہے

جو ابھی تک سچ ہوئی ہے وہ حکایت موت ہے

 

کاٹنے کو دوڑتی ہے درد کی یکسانیت

بے دلی کے زخم خوردہ کو عنایت موت ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات