عکس درِ رسول مری چشم تر میں ہے

عکس درِ رسول مری چشم تر میں ہے

آباد آئنوں کا سمندر نظر میں ہے

 

قدموں کی دھول سر پہ سجانے کے واسطے

خوشبو چراغ لے کے ازل سے سفر میں ہے

 

شبنم، دھنک، چنار، ہوا، چاندنی، سحاب

ہر حُسنِ کائنات تری رہ گزر میں ہے

 

ہر چیز رقص میں ہے جہانِ شعور کی

کیفِ دوام مدحتِ خیرالبشر میں ہے

 

ان کے قدوم پاک کی اترن کے نور سے

سورج میں روشنی تو اجالا قمر میں ہے

 

خورشید صبح غارِ حرا سے بلند ہو

آدم کی نسل ظلمتِ شب کے اثر میں ہے

 

کملی کی اُوٹ میں اسے لے لیجیے حضور

میرا چراغ تیز ہوا کے نگر میں ہے

 

شہرِ سخن میں اسمِ نبی کی ہے چاندنی

ورنہ کمال کیا مرے دستِ ہنر میں ہے

 

سب کچھ عطا کیا ہے خدا نے حضور کو

سب کچھ ریاض دامنِ خیرالبشر میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
نہیں ہے منگتا کوئی بھی ایسا کہ جس کا دامن بھرا نہیں ہے
واحسن منک لم ترقط عینی
شکر صد شکر کہ رہتی ہے مجھے یاد مدینہ
وہ کہ ہیں خیرالا نام
روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
سب سے ارفع ہے تری شان رسولِ عربی
بستیاں پیار کی دنیا میں بسانے والے
دو جہاں پر ہے جو چهایا وہ اجالا آپ ہیں
حقیقت میں وہ لطف زندگی پایا نہیں کرتے

اشتہارات