اردوئے معلیٰ

غرورِ شب کو کھٹکتا تھا اور ہی صورت

وہ بجھ گیا کہ بھڑکتا تھا اور ہی صورت

 

یہ پیار ، پیار نہیں تھا ، جدا کوئی شئے تھی

میں تجھ پہ جان چھڑکتا تھا اور ہی صورت

 

قدم تو خیر بگولوں کو پائلیں کرتے

مگر جنون بھٹکتا تھا اور ہی صورت

 

یہ زیر و بم جو ہوا ، نسبتاً سکوت ہوا

دلِ تباہ دھڑکتا تھا اور ہی صورت

 

اسی ادا سے جھٹک ہاتھ میرا کم سے کم

تو اپنی زلف جھٹکتا تھا اور ہی صورت

 

ترے تو بس میں ترامیم تھیں مرے خالق

کوئی بنا بھی تو سکتا تھا اور ہی صورت

 

سخن کی لو کہ بحالِ جنون بھی نہ بجھی

میں اول فول بھی بکتا تھا اور ہی صورت

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات